بنگلورو،2؍نومبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج سے بی جے پی کی طرف سے شروع کی گئی پریورتن یاترا کو ایک بڑا سیاسی ناٹک قرار دیا او ر کہاکہ ریاست میں اقتدار پر رہتے ہوئے بی جے پی نے جو پاپ کئے ہیں اس یاترا کے ذریعہ وہ دھونے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے جو ناممکن ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ کرناٹک کا ووٹر بہت ہی دانشمند ہے اسی لئے وہ اس طرح کی ڈھونگی یاتراؤں کے پھسلاوے میں نہیں آئے گا۔ اپنی رہائش گاہ پراعلیٰ پولیس عہدیداروں کے ہمراہ میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پریورتن یاترا نکالنے کیلئے حکومت نے اجازت دے دی ہے، لیکن اس یاترا کے دوران بی جے پی لیڈروں نے اگر مذہب ، ذات پات کی بنیاد پر انتشار اور انسانوں کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی، فرقہ وارانہ ماحول خراب کیا تو ریاستی حکومت ریلی کو دی گئی اجازت واپس لے لے گی۔انہوں نے کہاکہ سماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والی ایسی کسی بھی ریلی کی ضرورت نہیں ہے۔ چامنڈیشوری حلقہ میں انہیں ہرانے کیلئے بی جے پی کی کوششوں پر طنز کرتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ پچھلے 35سال سے چامنڈیشوری کے عوام ان کا ساتھ دیتے آرہے ہیں۔ اس بار بھی انہیں توقع ہے کہ عوام کا ساتھ انہیں حاصل رہے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ بی جے پی نے پچھلے پانچ سال کے دوران ریاست میں جو کرپشن کیا ہے اسے ریاست کے عوام نے فراموش نہیں کیا ہے۔ اپنی مدت اقتدار میں یڈیورپا اور ان کے جانشینوں نے کوئی ترقی نہیں کی ، لیکن ہر دن کرپشن کا ایک نیا گھپلہ ضرور سامنے آتا ، جس میں یڈیورپا کا ڈی نوٹی فکیشن ، ریڈی برادران کی غیر قانونی کانکنی ، منگلور کی بندرگاہ سے خام لوہے کی لوٹ نیز اور بھی بہت سارے گھپلے شامل ہیں۔ پریورتن یاترا کی قیادت کرنے والے یڈیورپا اور افتتاح کرنے والے بی جے پی کے قومی صدر امیت شا کی جوڑی پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ یہ دونوں بھی جیل یاترا کرچکے ہیں۔ سدرامیا نے کہاکہ یڈیورپا جب کرناٹکا جنتاپارٹی کے صدر رہے تو اس وقت انہوں نے بی جے پی قائدین پر کیا کیا نکتہ چینی کی تھی پہلے ان بیانات کو یاد کرلیں اور پھر یاترا کے دوران اپنی زبان کھولیں ۔ انہوں نے کہاکہ مہادائی مسئلہ کو سلجھانے کیلئے انہوں نے گوا کے وزیراعلیٰ کو مکتوب لکھا ،لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی، اس کے بعد وزیر اعظم مودی سے ملاقات کرکے گذارش کی گئی تو انہوں نے بھی نظر انداز کردیا۔ انہوں نے کہاکہ عدالت کے دائرہ سے باہر اس مسئلہ کو سلجھانے کیلئے مرکزی حکومت کو کرناٹک کا ساتھ دینا ہوگا۔